تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| ایران کے بارے میں گزشتہ برسوں سے مغربی میڈیا، اس کے ذیلی فارسی و علاقائی چینلز، اور برصغیر کے گودی میڈیا میں ایک مسلسل پروپگنڈہ پھیلایا جا رہا ہے کہ ایران مہنگائی سے تباہ ہو چکا ہے، عوام نانِ شبینہ کو ترس رہے ہیں، ریاست ناکام ہو چکی ہے اور سڑکوں پر عوامی بغاوت کھڑی ہے۔ مگر جب ان دعوؤں کو زمینی حقائق، عوامی سہولتوں، ریاستی نظم اور ہمسایہ ممالک سے تقابلی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کوئی خبر نہیں، بلکہ منظم پروپیگنڈہ ثابت ہوتا ہے۔
ایران میں مہنگائی کے وجود سے انکار نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کس نوعیت کی مہنگائی اور کس کے مقابل؟ ایران میں آج بھی پیٹرول سبسڈی کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ روپے انڈین فی لیٹر اور بغیر سبسڈی کے تین روپے کے آس پاس ہے، جب کہ ہندوستان، پاکستان، ترکی اور دیگر ممالک میں ایندھن عام آدمی کی آمدنی کا بڑا حصہ نگل جاتا ہے۔ یہ محض قیمتوں کا فرق نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات کا فرق ہے؛ ایران میں ایندھن عوامی حق ہے، دیگر ممالک میں ریاستی آمدن کا ذریعہ۔
اسی طرح گیس، بجلی اور پانی ایران میں آج بھی برصغیر اور اکثر ہمسایہ ممالک کے مقابل کہیں زیادہ سستے ہیں۔ دیہات تک گھر گھر گیس اور بجلی کی فراہمی، شدید خشک سالی کے باوجود پانی کا منظم انتظام، اور بنیادی سہولتوں پر ریاستی کنٹرول اس دعوے کو باطل کرتا ہے کہ ایرانی عوام بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ برعکس اس کے، برصغیر میں یہی سہولتیں بلوں، لوڈشیڈنگ اور نجکاری کے بوجھ تلے عام آدمی کے لیے عذاب بن چکی ہیں۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایران کی صورتِ حال خطے میں نمایاں ہے۔ ہوائی سفر، ٹرین اور بس کے کرائے آج بھی ہمسایہ ممالک کے مقابل کم ہیں۔ ایران کا ریلوے نظام نہ صرف ترقی یافتہ بلکہ صفائی، آرام اور وقت کی پابندی کے اعتبار سے ممتاز ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایران کی عام درجے کی بس اور ٹرین، آس پاس کے ممالک کی نام نہاد فرسٹ کلاس سہولتوں سے بہتر معیار رکھتی ہے۔ اس کے باوجود میڈیا ان شعبوں کو مکمل خاموشی سے نظرانداز کرتا ہے، کیونکہ ترقی خبر نہیں بنتی جب ملک ناپسندیدہ ہو۔
ہوٹل، رہائش اور روزمرہ اشیائے خوردنی کی قیمتیں بھی ایران میں آج تک ھندوستان اور پاکستان کے مقابل کم یا کم از کم قابلِ برداشت ہیں۔ روٹی، دودھ، سبزیاں، چاول اور مقامی پیداوار عام آدمی کی پہنچ میں ہیں۔ یہ سب کچھ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ ایران پر پانچ دہائیوں سے تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد ہیں، جن کی مثال جدید عالمی نظام میں مشکل سے ملتی ہے۔ پابندیاں بتائی جاتی ہیں، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ یہ پابندیاں کس نے لگائیں، کیوں لگائیں اور کس حد تک عوامی زندگی کو نشانہ بنایا۔
بینکنگ اور مالی نظام میں بھی ایران کا ماڈل مغربی اور برصغیری نظام سے مختلف ہے۔ ایرانی بینک عوام کو تجارتی مشارکت (Profit Sharing) میں دنیا کے کئی ممالک کے مقابل زیادہ منافع دیتے ہیں، جس سے متوسط طبقہ ریاستی معیشت کا شریک بنتا ہے، نہ کہ صرف سودی نظام کا شکار۔ یہ پہلو بھی میڈیا کے لیے غیر دل چسپ ہے، کیونکہ یہ اس جھوٹی افواہوں کو توڑتا ہے کہ ایرانی معیشت صرف جمود اور ناکامی کا نام ہے۔
انفراسٹرکچر کے میدان میں ایران کی سڑکیں صاف، منظم اور شہری منصوبہ بندی کا عکس ہیں۔ دیہات میں بھی شہری سہولتوں کی جھلک نظر آتی ہے۔ ریلوے، بس ٹرمینلز، عوامی مقامات اور صفائی کے نظام اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ریاست موجود ہے، غائب نہیں۔ اگر ایران واقعی اندر سے ٹوٹ چکا ہوتا تو یہ نظم و ضبط کب کا بکھر چکا ہوتا۔
سائنس، میڈیکل، دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایران کی پیش رفت اس پروپیگنڈے کی سب سے بڑی نفی ہے۔ ادویات میں خود کفالت، میڈیکل آلات، تعلیمی و تحقیقی ترقی، دفاعی صنعت، ڈرون، میزائل اور سیٹلائٹ پروگرام — یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پابندیاں ایران کو روک نہیں سکیں، بلکہ اسے خود انحصاری کی طرف بڑھا گئیں۔ مگر یہی کامیابیاں مغربی میڈیا کی اسکرین پر جگہ نہیں پاتیں۔
یہاں اصل کردار میڈیا ہاؤسز کا ہے۔ CNN چند سو افراد کے احتجاج کو Nationwide Uprising بنا کر پیش کرتا ہے۔ BBC Persian فارسی زبان میں جذباتی بیانیہ تراش کر اندرونی اثراندازی کرتا ہے۔ Reuters ظاہری غیر جانبداری کے ساتھ سیاق و سباق حذف کر دیتا ہے۔ Fox News کھلے عام سیاسی مطالبات کو خبر کا لباس پہناتا ہے۔ Voice of America (VOA) ایک ریاستی چینل ہو کر دوسری ریاست کے خلاف بیانیہ سازی میں مصروف رہتا ہے۔ برصغیر کا گودی میڈیا انہی سرخیوں کا اردو و ہندی ترجمہ کر کے بغیر تحقیق عوام کو پیش کر دیتا ہے، یوں پروپیگنڈہ مقامی زبان میں سچ بن جاتا ہے۔
اس پورے عمل میں ایک ہی پیٹرن دہرایا جاتا ہے: احتجاج کو انقلاب، مہنگائی کو ریاستی ناکامی، پابندیوں کو اندرونی نااہلی، اور ترقی کو مکمل خاموشی۔ تقابل غائب، سیاق حذف، اور زبان اشتعال انگیز — یہی میڈیا پروپیگنڈے کی پہچان ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایران میں مسائل ضرور ہیں، مگر جس شدت سے انہیں پیش کیا جاتا ہے وہ زمینی نہیں بلکہ اسکرین پر پیدا کی جاتی ہے۔ یہ مہنگائی کا بحران نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ ہے۔ اگر ایران واقعی ناکام ریاست ہوتا تو پانچ دہائیوں کی پابندیاں اسے کب کا مٹا چکی ہوتیں، مگر سستا ایندھن، سستی عوامی سہولتیں، منظم ٹرانسپورٹ، مضبوط انفراسٹرکچر اور سائنسی پیش رفت اس بات کا اعلان ہیں کہ ایران کے خلاف مہنگائی اور تباہی کا شور زیادہ تر جھوٹا میڈیا پروپیگنڈہ ہے، حقیقت نہیں۔
پروپیگنڈہ شور مچاتا ہے، جبکہ حقیقت خاموشی سے زندہ رہتی ہے —اور ایران اس خاموش حقیقت کی ایک زندہ مثال ہے۔
ایران میں آج بھی پیٹرول سبسڈی کے ساتھ اوسطاً ₹1.5 انڈین فی لیٹر اور بغیر سبسڈی کے تقریباً ₹3 فی لیٹر ہے، جب کہ اسی خطے میں ہندوستان میں پیٹرول ₹100–110، پاکستان میں ₹85–95، ترکی میں ₹120–130 اور عراق میں بھی ₹60–70 کے قریب ہے۔ یعنی ایندھن کے معاملے میں ایران نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ دنیا کے اکثر ممالک سے کئی درجہ سستا ہے، اور یہ فرق محض معاشی نہیں، بلکہ ریاستی پالیسی کا عکاس ہے۔
عوامی سہولتوں کے بلوں پر نظر ڈالیں تو ایران میں ایک اوسط گھریلو ماہانہ گیس بل ₹200–300، بجلی ₹300–500 اور پانی ₹50–100 کے درمیان رہتا ہے، جب کہ ھندوستان میں یہی سہولتیں مجموعی طور پر ₹1800–3500، پاکستان میں ₹2800–5300 تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ایران میں دیہی علاقوں تک گیس اور بجلی کی رسائی ایک معمول ہے، جب کہ برصغیر میں یہ آج بھی استثنا سمجھی جاتی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے میدان میں ایران میں شہری بس کا کرایہ عموماً ₹5–10، میٹرو یا شہری ٹرین ₹10–20، بین الاضلاعی آرام دہ بس ₹200–300 اور لگزری ٹرین ₹300–600 کے درمیان ہے، جبکہ بھارت اور پاکستان میں یہی سہولتیں بالترتیب ₹25–60، ₹500–1500 اور ₹600–1400 تک پہنچ جاتی ہیں، وہ بھی معیار اور صفائی میں واضح فرق کے ساتھ۔ یعنی ایران میں کم قیمت کے ساتھ بہتر معیار میسر ہے۔
خوراک اور روزمرہ اشیاء میں بھی یہی فرق نمایاں ہے۔ ایران میں ایک روٹی ₹5–7، دودھ ₹40–50 فی لیٹر، سبزیاں ₹30–50 فی کلو اور چاول ₹60–80 فی کلو کے درمیان ہیں، جب کہ بھارت میں یہ اشیاء اوسطاً ₹8–12، ₹55–65، ₹40–80 اور ₹70–120 اور پاکستان میں ₹10–15، ₹70–90، ₹60–120 اور ₹120–180 تک جا پہنچتی ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بنیادی خوراک ایران میں آج بھی عام آدمی کی دسترس میں ہے۔
رہائش اور ہوٹل کے شعبے میں ایران میں درمیانی درجے کا ہوٹل یا گیسٹ ہاؤس ₹1500–3000 فی رات میں دستیاب ہے، جبکہ یہی سہولت بھارت میں ₹2500–5000 اور پاکستان میں ₹3000–6000 تک چلی جاتی ہے۔ اس فرق کے باوجود ایران پر پانچ دہائیوں سے سخت ترین بین الاقوامی پابندیاں نافذ ہیں، جب کہ اس کے ہمسایہ ممالک ایسے کسی دباؤ کا شکار نہیں۔
ان تمام اعداد و شمار کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ مہنگائی کا شور ایران کے بارے میں حقیقت سے زیادہ جھوٹے پروپگنڈہ کا مسئلہ ہے۔ عددی تقابل یہ بتاتا ہے کہ ایندھن، عوامی سہولتیں، ٹرانسپورٹ اور بنیادی ضروریات ایران میں آج بھی ہمسایہ ممالک کے مقابل نمایاں طور پر سستی اور منظم ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ ایران مہنگائی سے ٹوٹ چکا ہے، اعداد کی دنیا میں نہیں، بلکہ میڈیا کے شور میں ہی سچ لگتا۔
حوالہ جات / Sources
National Iranian Oil Products Distribution Company (NIOPDC) – ایران میں سبسڈی اور نان سبسڈی پیٹرول کے سرکاری نرخ – Iranian fuel rationing & pricing policy (Official releases)
Ministry of Petroleum of Iran – ایندھن، گیس اور توانائی پر ریاستی سبسڈی کی تفصیلات
Iran Statistical Center – گھریلو یوٹیلیٹی بلز، خوراک، رہائش اور عوامی اخراجات کے اوسط اعداد
Central Bank of Iran – عوامی قوتِ خرید، قیمتوں کے اشاریے، بینکاری و مالی پالیسی
Indian Oil Corporation – ہندوستان میں پیٹرول و توانائی کے سرکاری نرخ
Pakistan Ministry of Energy – پاکستان میں ایندھن، گیس اور بجلی کے نرخ
Turkish Statistical Institute (TÜİK) – ترکی میں افراطِ زر اور ایندھن و ٹرانسپورٹ کے نرخ
Iraqi Ministry of Oil – عراق میں پیٹرول اور توانائی کی قیمتیں
World Bank – خطے میں مہنگائی، عوامی سہولتوں اور سبسڈی کا تقابلی ڈیٹا
International Energy Agency (IEA)، عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں اور سبسڈی کا موازنہ









آپ کا تبصرہ